دعا مانگنے والا خود بھی محروم نہیں رہتا

کہیں پڑھا تھا کہ اگر کسی کے لئے دل میں بغض اور حسد کے جذبات محسوس ہوتے ہوں تو اس کے لئے دعائے خیر کثرت سے کرنی چاہیئے. شروع میں ہو سکتا ہے دل زبان کے ساتھ نہ ہو لیکن امید ہے کہ انشاءاللہ ایک دن دل سے بھی دعا نکلے گی ان لوگوں کے لئے.

غائبانہ دعا کی بڑی فضلیت بیان ہوئی ہے اور اس دعا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس دعا کی قبولیت میں کوئی شک نہیں. دعا مانگنے والا خود بھی محروم نہیں رہتا.

ذرا سوچیئے اگر آپ کے دو بچے ہیں اور آپ ان کو کوئی چیز دینا چاہتے ہیں. ان میں سے ایک بچہ آپ سے کہے کہ میری اماں /ابا آپ یہ چیز میرے بھائی کو دے دیں میری خیر ہے. بتایئے آپ کو اس بچے پر کتنا پیار آئے گا. خود کو بھی ضرورت ہے لیکن اپنے بھائی کے لئے پہلے مانگ رہا ہے. آپ کی شفقت اور محبت یہ گوارا نہیں کرے گی کہ آپ اس بچے کو محروم رکھیں. بس اللہ پاک بھی ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے بھائی بہنوں اور دوستوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھتے ہیں. واللہ اعلم

Comments

Popular posts from this blog

بیت المقدس کی فتح

Some people