بیت المقدس کی فتح

"خدا نے جو عزت ہمیں دی ہے وہ اسلام کی عزت ہے اور وہی ہمارے لیے کافی ہے"
یہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کے الفاظ تھے۔
جابیہ میں "بیت المقدس کی فتح کے امن معاہدے" پر دستخط کے بعد جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ بیت المقدس روانہ ہوئے تو حضرت ابوعبیدہ الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ اور دیگر سپاہ نے شہر سے باہر نکل کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کا استقبال کیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کا لباس اتنا سادہ اور پرانا تھا کہ مسلمانوں کو شرم آتی تھی کہ عیسائی اس لباس میں دیکھ کر کیا کہیں گے؟ اس لئے انھوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کے لئے تُرکی گھوڑا اور قیمتی پوشاک پیش کی۔اسی موقع پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ نے یہ ایمان افروز الفا ظ ادا کئے اور اپنے سادہ اور پُرانے لباس میں بیت المقدس میں داخل ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیت المقدس نبیوں اور رسولوں کا شہر ہے۔یہ مسلمانوں کا قبلۂ اول بھی ہے۔اسی شہر سے حضرت محمد ﷺ کو معراج کا معجزہ نصیب ہوا،معراج پر جانے سے قبل یہاں آپ ﷺ نے نبیوں کی امامت کی،اس شہر سے کئی جلیل القدر انبیاء کرام کی نسبت ہے جن میں حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام،حضرت موسیٰ علیہ السلام،حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی شامل ہیں،اسی شہر میں مسلمانوں نے ایک عظیم الشان مسجد بنائی جسے مسجدِ اقصیٰ کہا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ نے جب شام میں چڑھائی کی تو ہر صوبہ پر الگ افسر بھیجے۔چنانچہ فلسطین حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کے حصے میں آیا،بعض مقامات دورِ صدیقی میں ہی فتح کرلئے گئے اور باقی شہر دورِ فاروقی میں فتح کئے گئے،یرموک کی فتح کے بعد سب سے آخر میں بیت المقدس کا محاصرہ کیا گیا،عیسائی قلعہ بند ہوکر لڑتے رہے،حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘نے بھی بیت المقدس کا رُخ کیا۔عیسائیوں نے ہمت ہار کر صلح کی درخواست کی اور مزید اطمینان کے لئے یہ شرط عائد کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ خود یہاں آئیں اور معاہدۂ صلح ان کی موجودگی میں کیا جائے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ نے مدینہ منورہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشاورت کی،حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کے مشورہ پر بیت المقدس جانے کا فیصلہ کیا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘کو مدینہ منورہ میں اپنا قائم مقام مقرر کر کے روانہ ہوگئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کُل زادِ راہ ایک اونٹ،ایک غلام،ایک پانی کا مشکیزہ،ستو اور کھجوروں کا ایک تھیلا تھا۔راستے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘اور ان کا غلام باری باری اونٹ پر سواری کرتے ہوئے اس شان سے وہاں پہنچے کہ اس وقت غلام اونٹ پر سوار تھا اور خود پیدل تھے۔تاہم جہاں یہ آواز پہنچتی تھی کہ فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘نے مدینہ سے شام کا ارادہ کیا ہے زمین دہل جاتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جابیہ پہنچنے پر حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘نے استقبال کیا،سب سے بڑے عیسائی پادری صفرنیوس کے ایلچی بھی جابیہ پہنچ گئے،بیت المقدس کا معاہدہ جابیہ میں ہی لکھا گیا،بڑے بڑے معزز صحابہ رضی اللہ عنہم کے دستخط ہوئے۔
اس عہد نامہ کے کچھ کچھ چیدہ چیدہ نکات دیکھتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے دوسری مفتوح قوم سے حسنِ سلوک کا انداز ہ ہوسکے۔
*یہ وہ امان ہے جو خدا کے غلام امیر المؤمنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ نے ایلیا کے لوگوں کودی۔
*یہ امان ان کی جان،مال،گرجا،صلیب،تندرست،بیمار اور ان کے تمام مذہب والوں کے لئے ہے۔
*نہ ان کے گرجاؤں میں سکونت اختیار کی جائے گی اور نہ وہ ڈھائے جائیں گے،نہ ان کو یا ان کے احاطے کو کوئی نقصان پہنچایا جائے گا۔
*نہ ان کی صلیبوں اور ان کے مال میں کچھ کمی کی جائے گی۔
*مذہب کے بارے میں ان پر جبر نہیں کیا جائے گا۔
*نہ ان میں سے کسی کو نقصان پہنچایا جائے گا۔
...................
*اس تحریر پر خدا،رسولﷺ،خلفاء اور مسلمانوں کا ذمہ ہے بشرطیکہ یہ لوگ مقررہ جِزیہ ادا کرتے رہیں۔
اس معاہدے کی کچھ شقیں آپ نے ملاحظہ کیں۔کسی مفتوح قوم کے حقوق تین ہی چیزوں سے متعلق ہوسکتے ہیں؛جان،مال اور مذہب۔اس معاہدہ میں یہ تینوں چیزیں محفوظ قرار دی گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘بیت المقدس کے ایک بڑے گرجے میں موجود تھے۔نماز کا وقت ہوگیا۔عیسائیوں نے کہا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ یہیں نمازپڑھ لیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘نےفرمایا "اسے دلیل بنا کر مسلمان بعد میں گرجے کو زبردستی مسجد میں تبدیل نہ کردیں "،گرجے سے باہر نکل کر نماز ادا کی۔اس مقام پر ایک مسجد تعمیرہوئی جو مسجدِ عمر کہلائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن نماز کے وقت حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ سے درخواست کی کہ آج اذان دو۔بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ نے کہا کہ میں عزم کرچکا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کے لئے اذان نہیں دوں گالیکن آج آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘کا ارشاد بجا لاؤں گا۔اذان دینی شروع کی تو تمام صحابہ کوعہد نبوی ﷺ یاد آگیا اور رقت طاری ہوگئی،ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ اور معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ روتے روتے بے تاب ہوگئے،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘کی بھی ہچکی لگ گئی اور دیر تک ایک عجیب اثر رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ بیت المقدس سے واپسی میں مفتوحہ علاقوں کا دورہ کرکے سرحدوں کی حفاظت کا انتظام کرتے ہوئے مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے۔اس کی خبر حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ اور دیگر مسلمانوں کو مل چکی تھی۔چنانچہ انھوں نے مدینہ کے باہر آپ کا عظیم الشان استقبال کیا اور یوں تاریخِ انسانی کا یہ منفرد سفراختتام پذیر ہوا۔

Comments

Popular posts from this blog

Some people