سلام کی فضیلت
📢سلام کی فضیلت۔
اِنَّ اَلحَمدَ لِلِّہِ نَحمَدہ، وَ نَستَعِینہ، وَ نَستَغفِرہ، وَ نَعَوذ بَاللَّہِ مِن شَرورِ أنفسِنَا وَ مِن سِیَّأاتِ أعمَالِنَا ، مَن یَھدِ ہ اللَّہُ فَلا مُضِلَّ لَہ ُ وَ مَن یُضلِل ؛ فَلا ھَاديَ لَہ ُ، وَ أشھَد أن لا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہ وَحدَہ لا شَرِیکَ لَہ ، وَ أشھَد أن مُحمَداً عَبدہ، وَ رَسو لہ
فَاعَوذُ بِاﷲ مِنَ الشَیطَانِ الرَجِیم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيم
📌 سورۃ النساء آیت 86میں ارشاد الہی ہے !
📖 "اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اسی طرح
اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے "
📚﴿سنن ابو داؤد
السلام علیکم کہنے کے آداب,
سلام عام کرنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 5193۔۔،
📚صحیح مسلم، کتاب الایمان﴾
🌴سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم لوگ اس وقت تک جنت میں نہیں جا سکو گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ۔ اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتا دوں کہ اس پر عمل کرنے سے آپس میں محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام بہت کیا کرو۔“۔
📚﴿سنن ابو داؤد
السلام علیکم کہنے کے آداب۔
سلام کہنے میں سبقت کی فضیلت,
حدیث نمبر: 5197﴾
🌴سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں میں اﷲ کے ہاں سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو انہیں سلام کہنے میں ابتداء کرے۔“۔
📚﴿,سنن ابو داؤد
السلام علیکم کہنے کے آداب,
پہلے سلام کون کہے؟
حدیث نمبر: 5198﴾
🌴سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوٹا بڑے کو، گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم لوگ زیادہ تعداد والوں کو سلام کہیں۔“۔
📌یہودیوں اور عیسائوں کو سلام
📚﴿سنن ابو داؤد
السلام علیکم کہنے کے آداب,
ذمیوں (کافروں) کو سلام۔,
حدیث نمبر: 5205﴾
🌴جناب سہیل بن ابوصالح نے کہا میں اپنے والد کے ساتھ شام کی طرف گیا تو لوگ عیسائیوں کے عبادت خانوں پر سے گزرے، تو انہیں سلام کہتے تھے۔ میرے والد نے کہا: انہیں سلام کہنے میں ابتداء نہ کرو، اس لیے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا ہے: ”ان لوگوں (کافروں) کو سلام کہنے میں ابتداء نہ کرو اور جب تم انہیں راستے میں ملو تو انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔“۔
📚﴿سنن ابو داؤد
السلام علیکم کہنے کے آداب,
ذمیوں (کافروں) کو سلام۔
حدیث نمبر: 5206﴾
🌴سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہودی جب تمہیں سلام کہتے ہیں تو (لفظ) «السام عليكم» بولتے ہیں (تم پر موت آئے) تو تم انہیں جواب میں «وعليكم» کہا کرو۔ (جو تم نے کہا ہے وہ تمہی پر ہو)۔“
📌کیا مشرک یا غیر مسلم کو سلام کرنا جائز ہے
🌱 احادیث کی روح سے مشرک یا غیر مسلم کو سلام میں پہل نہیں کرنی چاہیئے اور اگر وہ سلام کریں تو صرف وعلیکم کہنا چاہیے ۔ اب اگر راہ چلتے کوئی شخص ملتا ہے اور اپکو اس بات کی تصدیق نہیں ہے کہ وہ آپکا مومن بھائی ہے بھی کہ نہیں تو اس صورت میں سلام کیا جا سکتا ہے کیونکہ رسول صلي الله عليه وسلم راہ چلتے ہر چھوٹے بڑے کو سلام کرتے تھے اور اسکی ترغیب بھی فرماتے تھے۔
🌱حدیث میں آتا ہے
📚﴿سنن ابو داؤد
السلام علیکم کہنے کے آداب,
سلام عام کرنے کا حکم۔
,حدیث نمبر: 5194﴾
🌴سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کون سا اسلام (اسلام کی کون سی خصلت) بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہارا کھانا کھلانا اور سلام کہنا اسے، جسے تم پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو۔“۔
📚﴿صحیح مسلم
ﮐﺘﺎﺏ ﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻴﺎﻥ ﻣﻴﮟ
حدیث ٥٦٤٧﴾
🌴ﻋﺒﺪاﻟﻠّٰﻪ ﺑﻦ اﺑﻲ ﻃﻠﺤﻪ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﺳﮯ ﺭﻭاﻳﺖ ﻫﮯ، ﻫﻢ ﺑﻴﭩﻬﮯ ﺗﻬﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺟﻮ ﺯﻣﻴﻦ ﻫﻮﺗﻲ ﻫﮯ اﺱ ﻣﻴﮟ ﺑﺎﺗﻴﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ اﺗﻨﮯ ﻣﻴﮟ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠّٰﻪ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ ﺗﺸﺮﻳﻒ ﻻﺋﮯ۔ اﭖۤ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ:" ﺗﻢ ﮐﻮ ﺭاﻩ ﻣﻴﮟ ﺑﻴﭩﻬﻨﮯ ﺳﮯ ﮐﻴﺎ ﻣﻄﻠﺐ۔"ﻫﻢ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﻴﺎ، ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠّٰﻪ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ !ﻫﻢ ﮐﺴﻲ ﺑﺮے ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﻟﻴﮯ ﻧﻬﻴﮟ ﺑﻴﭩﻬﮯ ﺑﻠﮑﻪ ﻫﻢ ﺑﻴﭩﻬﮯ ﺗﻬﮯ ﭼﭗ اﺩﻫﺮ اﺩﻫﺮ ﮐﮯ ﺫﮐﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ اﻭﺭ ﺑﺎﺗﻴﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻬﮯ۔اﭖۤ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ:"اﭼﻬﺎ اﮔﺮ ﻧﻬﻴﮟ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﺗﻮ اﺱ ﮐﺎ ﺣﻖ اﺩا ﮐﺮﻭ ﻭﻩ ﮐﻴﺎ ﻫﮯ؟ اۤﻧﮑﻪ ﻧﻴﭽﮯ ﺭﮐﻬﻨﺎ (اﻭﺭاﺟﻨﺒﻲ ﻋﻮﺭﺗﻮں ﮐﻲ ﻃﺮﻑ ﻧﻈﺮ ﺑﺪ ﻧﻪ ﮐﺮﻧﺎ) اﻭﺭ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮاﺏ ﺩﻳﻨﺎ اﻭﺭ اﭼﻬﻲ ﺑﺎﺗﻴﮟ ﮐﺮﻧﺎ۔" (ﺟﻦ ﺳﮯ ﻟﻮگ ﺧﻮﺵ ﻫﻮں اﻭﺭ اﻥ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﻩ ﭘﻬﻨﭽﮯ)۔
🌱اور قرآن کریم کی یہ آیت بھی ہمیں ملتی ہے۔
اعوذو بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمان الرحيم
📖 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ ۚ كَذَٰلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
اے لوگو جو ایما ن لائے ہو، جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو دوست دشمن میں تمیز کرو اور جو تمہاری طرف سلام سے تقدیم کرے اُسے فوراً نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں ہے اگر تم دنیوی فائدہ چاہتے ہو تو اللہ کے پاس تمہارے لیے بہت سے اموال غنیمت ہیں آخر اسی حالت میں تم خود بھی تو اس سے پہلے مبتلا رہ چکے ہو، پھر اللہ نے تم پر احسان کیا، لہٰذا تحقیق سے کام لو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے باخبر ہے
📕 (سورة النساء # 94)
اِنَّ اَلحَمدَ لِلِّہِ نَحمَدہ، وَ نَستَعِینہ، وَ نَستَغفِرہ، وَ نَعَوذ بَاللَّہِ مِن شَرورِ أنفسِنَا وَ مِن سِیَّأاتِ أعمَالِنَا ، مَن یَھدِ ہ اللَّہُ فَلا مُضِلَّ لَہ ُ وَ مَن یُضلِل ؛ فَلا ھَاديَ لَہ ُ، وَ أشھَد أن لا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہ وَحدَہ لا شَرِیکَ لَہ ، وَ أشھَد أن مُحمَداً عَبدہ، وَ رَسو لہ
فَاعَوذُ بِاﷲ مِنَ الشَیطَانِ الرَجِیم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيم
📌 سورۃ النساء آیت 86میں ارشاد الہی ہے !
📖 "اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اسی طرح
📚﴿سنن ابو داؤد
السلام علیکم کہنے کے آداب,
سلام عام کرنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 5193۔۔،
📚صحیح مسلم، کتاب الایمان﴾
🌴سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم لوگ اس وقت تک جنت میں نہیں جا سکو گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ۔ اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتا دوں کہ اس پر عمل کرنے سے آپس میں محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام بہت کیا کرو۔“۔
📚﴿سنن ابو داؤد
السلام علیکم کہنے کے آداب۔
سلام کہنے میں سبقت کی فضیلت,
حدیث نمبر: 5197﴾
🌴سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں میں اﷲ کے ہاں سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو انہیں سلام کہنے میں ابتداء کرے۔“۔
📚﴿,سنن ابو داؤد
السلام علیکم کہنے کے آداب,
پہلے سلام کون کہے؟
حدیث نمبر: 5198﴾
🌴سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوٹا بڑے کو، گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم لوگ زیادہ تعداد والوں کو سلام کہیں۔“۔
📌یہودیوں اور عیسائوں کو سلام
📚﴿سنن ابو داؤد
السلام علیکم کہنے کے آداب,
ذمیوں (کافروں) کو سلام۔,
حدیث نمبر: 5205﴾
🌴جناب سہیل بن ابوصالح نے کہا میں اپنے والد کے ساتھ شام کی طرف گیا تو لوگ عیسائیوں کے عبادت خانوں پر سے گزرے، تو انہیں سلام کہتے تھے۔ میرے والد نے کہا: انہیں سلام کہنے میں ابتداء نہ کرو، اس لیے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا ہے: ”ان لوگوں (کافروں) کو سلام کہنے میں ابتداء نہ کرو اور جب تم انہیں راستے میں ملو تو انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔“۔
📚﴿سنن ابو داؤد
السلام علیکم کہنے کے آداب,
ذمیوں (کافروں) کو سلام۔
حدیث نمبر: 5206﴾
🌴سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہودی جب تمہیں سلام کہتے ہیں تو (لفظ) «السام عليكم» بولتے ہیں (تم پر موت آئے) تو تم انہیں جواب میں «وعليكم» کہا کرو۔ (جو تم نے کہا ہے وہ تمہی پر ہو)۔“
📌کیا مشرک یا غیر مسلم کو سلام کرنا جائز ہے
🌱 احادیث کی روح سے مشرک یا غیر مسلم کو سلام میں پہل نہیں کرنی چاہیئے اور اگر وہ سلام کریں تو صرف وعلیکم کہنا چاہیے ۔ اب اگر راہ چلتے کوئی شخص ملتا ہے اور اپکو اس بات کی تصدیق نہیں ہے کہ وہ آپکا مومن بھائی ہے بھی کہ نہیں تو اس صورت میں سلام کیا جا سکتا ہے کیونکہ رسول صلي الله عليه وسلم راہ چلتے ہر چھوٹے بڑے کو سلام کرتے تھے اور اسکی ترغیب بھی فرماتے تھے۔
🌱حدیث میں آتا ہے
📚﴿سنن ابو داؤد
السلام علیکم کہنے کے آداب,
سلام عام کرنے کا حکم۔
,حدیث نمبر: 5194﴾
🌴سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کون سا اسلام (اسلام کی کون سی خصلت) بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہارا کھانا کھلانا اور سلام کہنا اسے، جسے تم پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو۔“۔
📚﴿صحیح مسلم
ﮐﺘﺎﺏ ﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻴﺎﻥ ﻣﻴﮟ
حدیث ٥٦٤٧﴾
🌴ﻋﺒﺪاﻟﻠّٰﻪ ﺑﻦ اﺑﻲ ﻃﻠﺤﻪ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﺳﮯ ﺭﻭاﻳﺖ ﻫﮯ، ﻫﻢ ﺑﻴﭩﻬﮯ ﺗﻬﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺟﻮ ﺯﻣﻴﻦ ﻫﻮﺗﻲ ﻫﮯ اﺱ ﻣﻴﮟ ﺑﺎﺗﻴﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ اﺗﻨﮯ ﻣﻴﮟ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠّٰﻪ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ ﺗﺸﺮﻳﻒ ﻻﺋﮯ۔ اﭖۤ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ:" ﺗﻢ ﮐﻮ ﺭاﻩ ﻣﻴﮟ ﺑﻴﭩﻬﻨﮯ ﺳﮯ ﮐﻴﺎ ﻣﻄﻠﺐ۔"ﻫﻢ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﻴﺎ، ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠّٰﻪ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ !ﻫﻢ ﮐﺴﻲ ﺑﺮے ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﻟﻴﮯ ﻧﻬﻴﮟ ﺑﻴﭩﻬﮯ ﺑﻠﮑﻪ ﻫﻢ ﺑﻴﭩﻬﮯ ﺗﻬﮯ ﭼﭗ اﺩﻫﺮ اﺩﻫﺮ ﮐﮯ ﺫﮐﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ اﻭﺭ ﺑﺎﺗﻴﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻬﮯ۔اﭖۤ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ:"اﭼﻬﺎ اﮔﺮ ﻧﻬﻴﮟ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﺗﻮ اﺱ ﮐﺎ ﺣﻖ اﺩا ﮐﺮﻭ ﻭﻩ ﮐﻴﺎ ﻫﮯ؟ اۤﻧﮑﻪ ﻧﻴﭽﮯ ﺭﮐﻬﻨﺎ (اﻭﺭاﺟﻨﺒﻲ ﻋﻮﺭﺗﻮں ﮐﻲ ﻃﺮﻑ ﻧﻈﺮ ﺑﺪ ﻧﻪ ﮐﺮﻧﺎ) اﻭﺭ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮاﺏ ﺩﻳﻨﺎ اﻭﺭ اﭼﻬﻲ ﺑﺎﺗﻴﮟ ﮐﺮﻧﺎ۔" (ﺟﻦ ﺳﮯ ﻟﻮگ ﺧﻮﺵ ﻫﻮں اﻭﺭ اﻥ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﻩ ﭘﻬﻨﭽﮯ)۔
🌱اور قرآن کریم کی یہ آیت بھی ہمیں ملتی ہے۔
اعوذو بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمان الرحيم
📖 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ ۚ كَذَٰلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
اے لوگو جو ایما ن لائے ہو، جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو دوست دشمن میں تمیز کرو اور جو تمہاری طرف سلام سے تقدیم کرے اُسے فوراً نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں ہے اگر تم دنیوی فائدہ چاہتے ہو تو اللہ کے پاس تمہارے لیے بہت سے اموال غنیمت ہیں آخر اسی حالت میں تم خود بھی تو اس سے پہلے مبتلا رہ چکے ہو، پھر اللہ نے تم پر احسان کیا، لہٰذا تحقیق سے کام لو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے باخبر ہے
📕 (سورة النساء # 94)
Comments
Post a Comment